November 25, 2009
یہ زندگی انگنت بے مقصد
باتوں کا کھیل ہے
صحرا میں پھیلی ویرانی کی طرحاں
سوچوں کی اڑھتی ریت
پھول اور خشبو سے ملی دوستی میں
کانٹوں کا میل
سمندر میں پھیلی بیشمار لہریں
اور اس میں ڈوب جانے والی
دُکھوں کی سیج
ان اپس میں ٹکرا کر
معدوم ہونے والی لہروں میں
کوئی لہر بھی کنارے پر نہیں لگتی
یہ لہریں کب سیکھنگی
کے جب یہ [...]
Read the full article →